رائے پور20دسمبر(ایس او نیوز؍یواین آئی)چھتیس گڑھ کی بھوپیش حکومت نے حلف لینے کے محض چند گھنٹے میں ہی کسانوں کے6100کروڑ کے قرض معاف کرنے کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل کی صدارت میں کل رات کابینہ کی پہلی میٹنگ ہوئی،جس میں30نومبر 2018تک کوآپریٹو بینکوں اور چھتیس گڑھ دیہی بینک کے کسانوں کے6100کروڑ روپے کے قلیل مدتی قرض معاف کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے16لاکھ65ہزار سے بھی زیادہ کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔پڑوسی ریاست مدھیہ پردیش میں کل ہی تشکیل دی گئی کمل ناتھ حکومت نے جہاں قرض معافی کی تاریخ31مارچ2018اور رقم دو لاکھ روپے ہی طے کی ہے ،وہیں چھتیس گڑھ میں تاریخ30نومبر اور رقم کی کوئی حد طے نہیں کی گئی ہے ۔ بگھیل نے نامہ نگاروں کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ تجارتی بینکوں کے قلیل مدتی قرضوں کو جائزے کے بعد معاف کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے انتخابات میں کسانوں سے10دن کے اندر قرض معاف کرنے کا وعدہ کیاتھا،اس لئے حکومت نے حلف لینے کے بعد سب سے پہلا فیصلہ کسانوں کے قرض معاف کرنے کا کیا ہے ۔بگھیل نے بتایا کہ کابینہ نے ایک اور انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے امدادی رقم پر2500روپے فی کونٹل دھان خرید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے امدادی رقم پر دھان کی خرید کی شرح1750روپے فی کونٹل طے کی ہے ،باقی750روپے ریاستی حکومت خود برداشت کرے گی۔بستر کی جھیرم وادی میں25مئی2013میں ہوئے نکسلی حملے میں اس وقت کی ریاستی حکومت کانگریس کے صدر نند کمار پٹیل،سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکل،سابق اپوزیشن لیڈر مہیندر کرما سمیت تقریباً 30لوگوں کے مارے جانے کے واقعہ میں مبینہ طورپر سیاسی سازش کی جانچ کے لئے خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی تجویز کو بھی کابینہ نے منظوریر دی ہے ۔مسٹر بگھیل نے کہا کہ اس حملے کی ایس آئی ٹی سے جانچ کرانے کا وعدہ بھی پارٹی نے کیا تھا،جسے پہلی ہی میٹنگ میں پورا کردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا پارٹی عوام سے کئے گئے سبھی انتخابی وعدوں کو پورا کرے گی اور بدلے کے جذبے سے کام نہیں کرے گی۔کابینہ کی پہلی میٹنگ میں دو نئے وزیر تامردھوج ساہو اور ٹی ایس سنگھ دیو بھی موجود تھے ۔